مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يجزئ المسح عليهما باب: پگڑی پر مسح کرنے کا بیان
٣٨٨٥٤ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: ⦗٢٢٢⦘ (صلى) (١) رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (وسلم) (٢) صلاة فزاد أو نقص، فلما سلم وأقبل على القوم بوجهه قالوا: (يا رسول) (٣) اللَّه (٤) (أحدث) (٥) في الصلاة شيء؟ قال: "وما ذاك؟ " قالوا: صليت كذا وكذا، فثنى (رجله) (٦) فسجد سجدتين ثم سلم، وأقبل على القوم بوجهه فقال: "إنه لو حدث في الصلاة شيء (أنبأتكم) (٧) به، ولكني بشر أنسى كلما تنسون، فإذا (نسيت) (٨) فذكروني، وإذا شك أحدكم في صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه، فإذا سلم سجد سجدتين" (٩).حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی اور اس میں آپ نے کمی یا زیادتی کردی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیر کر قوم کی طرف اپنا رُخ مبارک کیا تو لوگوں نے عرض کیا، یار سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، نماز میں کوئی نئی چیز درپیش ہوئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کار ہوا ؟ لوگوں نے کہا، آپ نے اس طرح (کمی یا زیادتی کے ساتھ) نماز پڑھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور دو سجدے فرمائے، پھر آپ نے سلام پھیر کر قوم کی طرف رُخ مبارک کیا اور فرمایا۔ اگر نماز میں کچھ نئی چیز واقع ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا، لیکن میں ایک بندہ ہوں، تمہاری طرح میں بھی بھول جاتا ہوں، پس جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد دلاؤ، اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو تو اسے درست بات کی طرف تحری کرنی چاہیے۔ پھر اس تحری پر نماز کو مکمل کرے۔ پس جب سلام پھیر دے تو دو سجدے کرے۔