مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: ينجس الماء باب: جب پانی دو قُلّے تک پہنچ جائے (تو اس کی طہارت اور نجاست کا بیان)
٣٨٨٥٠ - حدثنا ابن فضيل عن أبي إسماعيل عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: عرسنا مع النبي ﷺ ذات ليلة فلم نستيقظ حتى آذتنا الشمس، فقال النبي ﷺ: "ليأخذ كل رجل منكم برأس (راحلته) (١) ثم (يتنح) (٢) عن هذا المنزل"، ثم دعا بالماء فتوضأ فسجد سجدتين ثم أقيمت الصلاة فصلى (٣).حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا تو ہم سورج کی شعائیں پڑنے پر بیدار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک اپنے کجاوہ کے سرے کو پکڑ لے پھر اس جگہ سے ہٹ جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو فرمایا اور دو سجدے ادا کئے پھر نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب آدمی طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت بیدار ہو اور (اسی وقت) نماز پڑھے تو یہ اس کو کفایت نہیں کرے گی۔