مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: ينجس الماء باب: جب پانی دو قُلّے تک پہنچ جائے (تو اس کی طہارت اور نجاست کا بیان)
٣٨٨٤٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن جامع بن شداد قال: سمعت (عبد الرحمن ابن أبي علقمة قال: سمعت) (١) عبد اللَّه بن مسعود قال: أقبلنا مع النبي ﷺ من الحديبية فذكروا أنهم نزلوا (دهاسا) (٢) من الأرض -يعني بالدهاس: الرمل- قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "من يكلونا؟ " قال: فقال بلال: أنا، فقال النبي ﷺ: "إذن ننم"، قال: فناموا حتى طلعت الشمس، قال: فاستيقظ أناس فيهم فلان وفلان (وفيهم) (٣) عمر بن الخطاب، قال: (فقلنا) (٤): اهضبوا -يعني تكلموا- قال: فاستيقظ النبي ﷺ فقال: "إفعلوا كما كنتم تفعلون" قال: ففعلنا قال: فقال: "كذلك لمن نام أو نسي" (٥).حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے آ رہے تھے صحابہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک ریت کے ٹیلے پر اترے، ابن مسعود کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کون ہماری حفاظت کرے گا ؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت بلال نے کہا : میں کروں گا ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تو ہم سوتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ سب لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا، راوی کہتے ہیں : چند لوگ بیدار ہوگئے ، جن میں فلاں ، فلاں تھے اور انہی میں عمر بن خطاب بھی تھے ، کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کہا : باتیں کرو، راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیدار ہوگئے اور آپ نے فرمایا : تم جیسے کرتے تھے ویسے ہی کرو، راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کیا (یعنی نماز پڑھی) راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کوئی نماز بھول جائے یا سویا رہے تو وہ ایسے ہی کرے۔