مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يجلدها سيدها باب: لونڈی جب زنا کرے تو آقا کا اس کو کو ڑے مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 38844
٣٨٨٤٤ - حدثنا أبو أسامة عن (١) الوليد بن كثير عن محمد بن كعب عن عبيد اللَّه ابن عبد اللَّه (بن) (٢) رافع بن خديج عن أبي سعيد الخدري قيل: يا رسول اللَّه أنتوضأ من (بئر) (٣) بضاعة؟ وهي (بئر) (٤) يلقى فيها الحيض ولحوم الكلاب والنتن، ⦗٢١٨⦘ فقال النبي ﷺ: "الماء طهور لا ينجسه شيء" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ کسی نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ سے وضو کرسکتے ہیں، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض (کے کپڑے) ، کُتوں کا گوشت اور گندگی ڈالی جاتی ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پانی پاک ہوتا ہے اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی۔
حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (عبد).
(٢) في [هـ]: (عن).
(٣) في [أ، ب، س]: (بيد).
(٤) في [أ، ب، س]: (بيد).
(٥) مجهول؛ لجهالة عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن رافع، أخرجه أحمد (١١٨١٨)، وأبو داود (٦٦)، والترمذي (٦٦)، والنسائي ١/ ١٧٤، وابن الجارود (٤٧)، والدارقطني ١/ ٢٩، والبيهقي ١/ ٥٧٢، والمزي ١٩/ ٨٤، وأبو يعلى (١٣٠٤)، والطحاوي ١/ ١٢، والبخاري في التاريخ ٣/ ١٦٩.