مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: ليس هذا بشيء، ولا (يرى) فيه قرعة باب: آزادی میں قرعہ ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 38841
٣٨٨٤١ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب بن موسى عن سعيد عن أبي هريرة قال: قال النبي ﷺ: "إذا زنت أمة (أحدكم) (١) فليجلدها ولا يثرب عليها، فإن عادت (فليجلدها، فإن عادت) (٢) فليبعها (٣) ولو (بضفير) (٤) من شعر" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو آدمی کو (مالک کو) چاہیے کہ اس کو ڑے لگائے لیکن اس کو گناہ پر عار نہ دلائے، پھر اگر لونڈی دوبارہ یہ گناہ کرے تو آدمی کو چاہیے کہ اس کو کوڑے لگائے، پھر اگر وہ لونڈی دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کرے تو مالک اس کو بیچ ڈالے اگرچہ بالوں کی ایک رسی کے عوض ہی کیوں نہ ہو۔
حواشی
(١) في [س]: (أجدكم).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [س]: (أبيعها).
(٤) في [س]: (بغيفر).