مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الرد على أبي حنيفة
وذكر أن أبا حنيفة قال: ليس هذا بشيء، ولا (يرى) فيه قرعة باب: آزادی میں قرعہ ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 38839
٣٨٨٣٩ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه عن زيد بن خالد وشبل وأبي هريرة قالوا: (كنا) (١) عند النبي ﷺ فأتاه رجل فسأله عن الأمة ⦗٢١٦⦘ تزني قبل أن تحصن، قال: "اجلدوها فإن عادت فاجلدوها"، قال في الثالثة أو الوابعة: "فبيعوها ولو (بضفير) (٢) " (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد، شبل اور ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھے ، کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے آپ سے محصن زانیہ لونڈی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو کوڑے مارو، پھر اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو پھر کوڑے مارو، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری اور چوتھی مرتبہ میں فرمایا، پھر اس کو بیچ دو اگرچہ ایک رسی کے بدلہ میں ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [س]: (بغيفر).