حدیث نمبر: 38818
٣٨٨١٨ - حدثنا عباد عن حصين عن الشعبي قال: سمعت النعمان بن بشير يقول أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد النبي ﷺ قال: فأتى النبي ﷺ فقال: إني أعطيت ابني من عمرة عطية، فأمرتني أن أشهدك، قال: "أعطيت كل ولدك مثل هذا؟ " قال: لا، قال: "فاتقوا اللَّه واعدلوا بين أولادكم" (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر کو کہتے سُنا کہ میرے والد نے مجھے کوئی عطیہ دیا تو میری والد عمرہ بنت رواحہ نے کہا : جب تک تم اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو میں (اس پر) راضی نہ ہوں گی۔ حضرت نعمان کہتے ہیں کہ وہ (میرے والد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے بیٹے کو جو عمرہ سے ہے کوئی عطیہ دیا ہے اور اس نے مجھے (اس پر) آپ کو گواہ بنانے کا کہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا عطیہ دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں عدل کرو۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38818
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٨٧)، ومسلم (١٦٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38818، ترقيم محمد عوامة 37219)