حدیث نمبر: 38798
٣٨٧٩٨ - حدثنا مسلمة (حدثنا) (١) محمد بن عبد اللَّه بن محمد بن يوسف المكي البغدادي بالقلزم قال: حدثني أبي ﵀ قال: حدثنا أبي محمد ابن يوسف قال: حدثنا أبو داود سليمان بن عمرو النخعي حدثنا سعيد بن إياس عن علقمة قال (عبد اللَّه) (٢) ابن عباس: أول من اتخذ الكلب نوح، قال: يا رب أمرتني أن أصنع الفلك فأنا في صناعته أصنع أياما، فيجيئوني بالليل فيفسدون، كل ما عملت أفسدوه فمتى يلتئم لي ما أمرتني به، قد (طال) (٣) علي أمري، فأوحى اللَّه إليه: يا نوح اتخذ كلبًا يحرسك، فأتخذ نوح كلبًا، فكان يعمل بالنهار وينام بالليل، فإذا جاءه قومه ليفسدوا ما (عمل) (٤) (ينبحهم) (٥) الكلب فينتبه نوح، فيأخذ الهراوة لهم ويثب عليهم فيهربون منه، فالتأم له ما أراد (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کتا سب سے پہلے حضرت نوح نے پالا۔ انہوں نے کہا کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے حکم دیا کہ میں کشتی بناؤں۔ میں دن بھر کشتی بناتا ہوں پھر وہ رات کو آکر اسے خراب کردیتے ہیں۔ جو کام میں کرتا ہوں وہ اسے خراب کردیتے ہیں۔ میرا کام مجھ پر بہت لمبا ہوگیا ہے ! اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی طرف وحی بھیجی کہ اے نوح ! اپنی کشتی کی حفاظت کے لئے ایک کتا رکھ لو۔ حضرت نوح نے ایک کتا رکھ لیا۔ حضرت نوح نے دن کو کام کیا اور رات کو سو گئے۔ جب ان کی قوم کے نافرمان لوگ کشتی کو خراب کرنے آئے تو کتا بھونکنے لگا۔ اس پر حضرت نوح جاگ گئے۔ اور ان پر ٹوٹ پڑے جس سے وہ سب لوگ بھاگ گئے۔ اس طرح حضرت نوح اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔

حواشی
(١) في [ي]: (ابن).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [س]: (حال).
(٤) في [س]: (عملوا).
(٥) في [س، ي]: (نبحهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38798
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): موضوع؛ سليمان بن عمرو النخعي وضاع.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38798، ترقيم محمد عوامة 37199)