٣٨٧٩١ - حدثنا مسلمة حدثنا أبو علي عبد اللَّه بن محمد بن أبي رجاء الزيات المالكي بمكة إملاء من حفظه حدثنا أبو حارثة أحمد بن إبراهيم الغساني بالرملة سنة سبع وسبعين ومائتين حدثنا أبي عن أبيه عن جده عن رجل من جيش مسلم بن عقبة قال: لما نزلنا بالمدينة دخلت مسجد رسول اللَّه ﷺ فصليت إلى جنب عبد الملك ابن مروان، فقال لي عبد الملك: أمن هذا الجيش أنت؟ (قال) (١): قلت: نعم، قال: ثكلتك أمك، أتدري إلى من تسير؟ إلى أول مولود ولد في الإسلام، وإلى ابن حواري رسول اللَّه ﷺ، وإلى ابن أسماء ذات النطاقين، وإلى من حنكه رسول اللَّه ﷺ بيده، (٢) أما واللَّه لئن جئته نهارًا لتجدنّه صائمًا، ولئن جئته ليلًا لتجدنه قائمًا، ولو أن أهل الأرض أطبقوا على قتله (لكبهم) (٣) اللَّه جميعًا في النار على وجوههم، قال ذلك الرجل: ما مضت (إلا) (٤) أيام حتى صارت الخلافة إلى عبد الملك ووجهنا إليه فقتلناه.حضرت مسلم بن عقبہ کے لشکر کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے عبد الملک بن مروان کے ساتھ نماز پڑھی۔ عبد الملک نے مجھ سے کہا کہ کیا تو اس لشکر سے ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے کہا تمہاری ماں تمہیں کھوئے، کیا تم جانتے ہو کہ تم کس سے لڑنے جارہے ہو ؟ تم اسلامی سلطنت میں پیدا ہونے والے پہلے بچے سے لڑنے جارہے ہو، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حواری (حضرت زبیر ) کے بیٹے سے لڑنے جارہے ہو۔ تم حضرت اسماء ذات النطاقین کے بیٹے سے لڑنے جارہے ہو۔ تم اس سے لڑنے جارہے ہو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھٹی دی تھی۔ خدا کی قسم اگر تم دن کو ان کے پاس جاؤ تو انہیں روزے کی حالت میں پاؤ گے اور اگر رات میں ان کے پاس جاؤ تو انہیں قیام کی حالت میں پاؤ گے۔ اگر ساری زمین کے لوگ ان کے قتل پر اجماع کرلیں تو اللہ تعالیٰ سب کو ان کو منہ کے بل جہنم میں داخل کردے گا۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ عبد الملک کو خلیفہ بنادیا گیا ۔ اس نے ہمیں حضرت عبد اللہ بن زبیر کو قتل کرنے کے لئے بھیجا اور ہم نے انہیں قتل کردیا۔ ! !