٣٨٧٦٢ - حدثنا أسود حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي حُرَّة الرقاشي عن عمه قال: كانت (آخذًا) (١) بزمام ناقة رسول اللَّه ﷺ في أوسط أيام التشريق أذود عنها الناس، فقال: "يا أيها الناس، ألا إن كل مال وماثرة كانت في الجاهلية تحت قدمي هذه إلى يوم القيامة، وإن أول دم موضوع: دم ربيعة بن الحارث ابن عبد المطلب، وإن اللَّه قضى أن أول ربا موضوع: ربا العباس بن عبد المطلب، لكم رؤوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون" (٢).حضرت ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایام تشریق میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام کو تھاما ہوا تھا اور لوگوں کو اس سے دور کررہا تھا۔ آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو ! ہر مال اور ہر نشان جو جاہلیت میں تھا وہ قیامت تک کے لئے میرے قدموں کے نیچے ہے۔ سب سے پہلا خون جو معاف کیا گیا وہ ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا خون ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا ہے کہ پہلا سود جو معاف ہوا ہے وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ تمہارے لئے تمہارے پورے پورے مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔