٣٨٧٢٤ - حدثنا كثير عن جعفر عن ميمون لما نزلت هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا﴾ [النور: ٤]، قال رجل: أن رأى رجل في أهله ما يكره (فذهب) (١) (٢) يجمع أربعة فرغ الرجل من حاجته، وإن ذكر ذلك جلد، ولم (تقبل) (٣) له شهادة، وكان من الفاسقين، فانزلت آية التلاعن، فكان ذلك الرجل الذي قال ما قال (أول) (٤) من ابتلي بهذا، ونزلت آية التلاعن (٥).حضرت میمون فرماتے ہیں کہ جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی { وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَۃً وَلاَ تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا } تو ایک آدمی نے کہا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو ایسی حالت میں دیکھے جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہو تو کیا وہ جاکر چار آدمی جمع کرنے لگ جائے۔ اتنے میں وہ آدمی اپنے کام سے فارغ ہوجائے گا۔ اور اگر وہ اس بات کا ذکر کرے تو اسے کوڑے بھی پڑیں گے، اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی اور وہ فاسقوں میں سے بھی ہوجائے گا ؟ اس پر لعان کی آیت نازل ہوئی۔ وہ آدمی جس نے یہ بات کی تھی وہی لعان کے حکم میں سب سے پہلے مبتلا ہوا۔