حدیث نمبر: 38668
٣٨٦٦٨ - حدثنا أبو أسامة عن (مجالد) (١) قال: أخبرنا عامر أن أول جد خاصم (بني) (٢) (بنيه) (٣) عمر بن الخطاب، مات ابنه وترك ابنين فخاصمهم إلى ⦗١٦٨⦘ زيد بن ثابت فرآه عمر ينظر في شأنهم فقال: من يخاصمني في ولدي، فقال زيد: إن لهم أبا دونك، فشرك بينهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر فرماتے ہیں کہ وہ پہلے دادا جنہوں نے اپنے پوتوں کو حاصل کرنے کے لئے جھگڑا کیا حضرت عمر بن خطاب تھے۔ ان کے صاحبزادے کا انتقال ہوا اور انہوں نے دو بیٹے چھوڑے۔ حضرت عمر ان کے حصول کا جھگڑا لے کر حضرت زید بن ثابت کے پاس گئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت زید ان کے خلاف فیصلہ کریں گے تو فرمایا کہ میری اولاد کے بارے میں کون میرا فریق بن سکتا ہے ؟ حضرت زید نے فرمایا کہ ان کے والد آپ نہیں کوئی اور ہے۔ پھر ان کے درمیان شراکت کرادی۔

حواشی
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ]: (بنينه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38668
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ مجالد ضعيف وعامر لم يسمع من عمر، أخرجه الدارمي (٢٩١٣)، وعبد الرزاق (١٩٠٤١)، والبيهقي ٦/ ٢٤٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38668، ترقيم محمد عوامة 37071)