حدیث نمبر: 38650
٣٨٦٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن داود عن زرارة بن أوفى عن تميم الداري قال: أول ما يحاسب (به العبد) (١) يوم القيامة الصلاة المكتوبة، فإن أتمها وإلا قيل: انظروا هل له من تطوع، فأكملت (الفريضة) (٢) من تطوعه، فإن لم (تكمل) (٣) الفريضة ولم يكن له تطوع أخذ بطرفيه فقذف به في النار (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم داری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا۔ اگر وہ پوری نکل آئی تو ٹھیک اور اگر وہ پوری نہ نکلی تو کہا جائے گا کہ دیکھو کہ اس کے پاس نوافل بھی ہیں۔ اس کے نوافل سے فرضوں کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ اگر فرض پورے نہ نکلے اور نوافل بھی نہ ہوئے تو اس آدمی کو پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (العبد به).
(٢) في [س]: (المكتوبة).
(٣) في [س]: (تكن).