حدیث نمبر: 38641
٣٨٦٤١ - حدثنا محمد بن الحسن حدثنا أبو عوانة عن مغيرة عن عامر عن عدي ابن حاتم قال: أتيت عمر في ناس من قومي، فجعل يفرض لرجال من طيء في ألفين، ويعرض عني، فقلت: يا أمير المؤمنين أما (تعرفني؟) (١) فضحك حتى استلقى لقفاه، ثم قال: (واللَّه) (٢) إني لأعرفك، قد آمنت إذ كفروا، وأقبلت إذ أدبروا (٣)، ثم أخذ يعتذر، ثم قال: إنما فرضت لقوم أجحفت بهم الفاقة وهم سراة عشائرهم لما ينوبهم من الحقوق (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ قبیلہ طی کے کچھ لوگوں کو مال دینے میں مشغول تھے اور مجھ سے اعراض فرما رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین ! کیا آپ مجھے جانتے نہیں ہں ت۔ یہ بات سن کر حضرت عمر ہنسے اور ہنستے ہنستے لیٹنے لگے۔ پھر فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں تمہں ت اچھی طرح جانتا ہوں، جب سب لوگوں نے کفر کیا تو تم ایمان لائے، جب سب نے رخ پھیرا تو تم اسلام کی طرف متوجہ ہوئے۔ پھر عذر پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے فاقے کے شکار کچھ لوگوں کو مال دے رہا تھا۔ وہ اپنے خاندانوں کے معزز لوگ ہیں۔

حواشی
(١) في [س]: (توفني).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [هـ]: زيادة (ووفيت إذ غدروا، وإن أول صدقة بيضت وجه رسول اللَّه ﷺ ووجوه أصحابه صدقة طي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38641
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال محمد بن الحسن، لكن الخبر ورد من طريق غيره، أخرجه أحمد (٣١٦)، وبنحوه أخرجه البخاري (٤٣٩٤)، ومسلم (٢٥٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38641، ترقيم محمد عوامة 37045)