٣٨٦٤١ - حدثنا محمد بن الحسن حدثنا أبو عوانة عن مغيرة عن عامر عن عدي ابن حاتم قال: أتيت عمر في ناس من قومي، فجعل يفرض لرجال من طيء في ألفين، ويعرض عني، فقلت: يا أمير المؤمنين أما (تعرفني؟) (١) فضحك حتى استلقى لقفاه، ثم قال: (واللَّه) (٢) إني لأعرفك، قد آمنت إذ كفروا، وأقبلت إذ أدبروا (٣)، ثم أخذ يعتذر، ثم قال: إنما فرضت لقوم أجحفت بهم الفاقة وهم سراة عشائرهم لما ينوبهم من الحقوق (٤).حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ قبیلہ طی کے کچھ لوگوں کو مال دینے میں مشغول تھے اور مجھ سے اعراض فرما رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین ! کیا آپ مجھے جانتے نہیں ہں ت۔ یہ بات سن کر حضرت عمر ہنسے اور ہنستے ہنستے لیٹنے لگے۔ پھر فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں تمہں ت اچھی طرح جانتا ہوں، جب سب لوگوں نے کفر کیا تو تم ایمان لائے، جب سب نے رخ پھیرا تو تم اسلام کی طرف متوجہ ہوئے۔ پھر عذر پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے فاقے کے شکار کچھ لوگوں کو مال دے رہا تھا۔ وہ اپنے خاندانوں کے معزز لوگ ہیں۔