٣٨٦٢٥ - حدثنا يحيى بن يعلى الأسلمي عن عبد اللَّه بن المؤمل عن أبي الزبير عن جابر قال: كان أول إسلام عمر، قال: قال عمر: (١) ضرب أختي المخاض، قال: فأخرجت من البيت، (فدخلت) (٢) (٣) في أستار الكعبة في ليلة قارة، قال: فجاء النبي ﷺ فدخل الحجر وعليه نعلاه، قال: فصلى ما شاء اللَّه ثم انصرف، فسمعت شيئًا لم أسمع مثله، فخرجت فاتبعته فقال: "من هذا؟ " فقلت: عمر، قال: "يا عمر ما تدعني ليلا و (لا) (٤) نهارًا" قال: فخشيت أن يدعو علي، فقلت: أشهد أن لا إله إلا اللَّه، وأنك رسول اللَّه، فقال: "يا عمر استره"، قال: فقلت: والذي ⦗١٥٧⦘ بعثك بالحق (لأعلننه كما أعلنت الشرك) (٥) (٦).حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے اسلام کی ابتدا کا واقعہ یہ ہوا کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میری بہن کو درد زہ ہوا تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ میں ایک تاریک رات میں خانہ کعبہ کے پردوں میں داخل ہوگیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ جوتوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور جتنا اللہ نے چاہا اتنی نماز پڑھی۔ پھر میں نے ایک ایسی آواز سنی جو پہلے نہ سنی تھی۔ میں اس آواز کے پیچھے چل پڑا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کون ہے ؟ میں نے کہا کہ عمر ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر ! کیا بات ہے کہ تم ہمیں نہ دن میں چھوڑتے ہو نہ رات میں۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے خلاف بددعا نہ کردیں۔ لہٰذا میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا اے عمر اس بات کو خفیہ رکھو۔ میں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جس طرح میں نے شرک کا اعلان کیا تھا میں ایمان کا بھی اعلان کروں گا۔