حدیث نمبر: 38596
٣٨٥٩٦ - حدثنا الفضل حدثنا (١) الوليد بن جميع (قال) (٢): (حدثتني) (٣) جدتي عن أم ورقة (ابنة) (٤) عبد اللَّه بن الحارث الأنصاري أن غلاما لها وجارية غماها وقتلاها في إمارة عمر، وإنهما هربا، فأتي بهما عمر فصلبهما فكانا أول مصلوبين بالمدينة (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن جمیع کہتے ہیں کہ میری دادی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث کے ایک غلام اور ان کی ایک باندی نے مل کر انہیں قتل کیا اور بھاگ گئے۔ پھر انہیں پکڑ کر حضرت عمر کے پاس لایا گیا تو آپ نے ان دونوں کو سولی پر چڑھا دیا۔ مدینہ میں ان دونوں کو سب سے پہلے سولی پر چڑھایا گیا۔
حواشی
(١) في [س]: زيادة (أبو).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س]: (حدثني).
(٤) في [جـ]: (ابن).
(٥) مجهول؛ لجهالة جدة الوليد بن جميع، أخرجه أححد ٦/ ٤٠٥ (٢٧٣٢٣)، وأبو داود (٥٩١)، وإسحاق (٢٣٨١)، والطبراني ٢٥/ (٣٢٦)، وابن سعد ٨/ ٤٥٧، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٤٤٦، والبيهقي ٣/ ١٣٠، والبخاري في الأوسط ١/ ٤٥، وأبو العرب في المحن ص ٢٥٣.