٣٨٥٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن زرارة بن أوفى حدثنا عبد اللَّه بن ⦗١٤٨⦘ سلام قال: لما قدم رسول اللَّه ﷺ المدينة (انجفل) (١) الناس قبله وقيل: قدم رسول اللَّه ﷺ ثلاثًا، فجئت في الناس لأنظر إليه، فلما تبينت وجهه عرفت أن وجهه ليس بوجه كذاب، فكان أول شيء سمعته يتكلم به أن قال: "يا أيها الناس أفشوا السلام، وأطعموا الطعام، وصلوا الأرحام، وصلوا والناس نيام، تدخلوا الجنة بسلام" (٢).حضرت عبد اللہ بن سلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ جب میں نے آپ کے چہرے پر غور کیا تو یہ چہرہ دیکھ کر جان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہر ہ ہو ہی نہیں سکتا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پہلے یہ کہتے ہوئے سنا ” اے لوگو ! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو اور جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔