٣٨٥٧٥ - (حدثنا الفضل) (١) حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم قال: قال المغيرة بن شعبة: إن أول يوم عرفت فيه رسول اللَّه ﷺ أني (٢) أمشي مع أبي جهل بمكة، فلقينا رسول اللَّه ﷺ فقال له: "يا أبا الحكم، هلم إلى اللَّه وإلى رسوله وإلى كتابه أدعوك إلى اللَّه"، فقال: يا محمد، ما أنت بمنته عن سب آلهتنا، هل تريد إلا أن نشهد أن قد بلغت، فنحن نشهد أن قد بلغت، قال: فانصرف عنه رسول اللَّه ﷺ فأقبل علي فقال: واللَّه إني لأعلم أن ما يقول حق، ولكن بني قصي قالوا: فينا ⦗١٤٤⦘ الحجابة، فقلنا: نعم، (ثم قالوا: فينا القرى، فقلنا: نعم) (٣)، ثم قالوا: فينا الندوة، فقلنا: نعم، ثم قالوا: فينا السقاية، فقلنا: نعم، ثم أطعموا وأطعمنا حتى إذا تحاكت الركب قالوا: منا نبي واللَّه لا أفعل (٤).حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے اس وقت پہچانا جب میں مکہ میں ابو جہل کے ساتھ چل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ملے اور آپ نے ابو جہل سے کہا کہ اے ابو الحکم ! اللہ کی طرف آؤ، اللہ کے رسول کی طرف آؤ اور اللہ کی کتاب کی طرف آؤ، میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ اس نے جواب دیا اے محمد ! تم ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے ہو۔ اگر تم اس بات کی گواہی چاہتے ہو کہ تم نے پیغام پہنچادیا تو ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تم نے پیغام پہنچا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے تو ابوجہل میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ حق سچ ہے لیکن بنو قصی والوں نے کہا کہ ہم میں کعبہ کی دربانی ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم میں حاجیوں کی مہمانی ہے۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم میں سرداروں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں حاجیوں کو پانی پلانے کا اعزاز ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر انہوں نے بھی کھلایا اور ہم نے بھی کھلایا اور اب جب لوگوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم میں نبی ہے۔ خدا کی قسم ہم ہرگز اس کو نہیں مانیں گے۔