حدیث نمبر: 38554
٣٨٥٥٤ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن عامر قال: أول من بايع تحت الشجرة أبو سنان (٢) وهب الأسدي أتى النبي ﷺ فقال: أبايعك، قال: "علام ⦗١٣٩⦘ تبايعني؟ " قال: أبايعك على ما في نفسك، فبايعه (٣) الناس بعد (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر سب سے پہلے حضرت ابو سنان بن وہب اسدی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم کس چیز پر بیعت ہونا چاہتے ہو۔ عرض کیا جو چیز آپ کے دل میں ہے میں اس پر بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے انہیں بیعت فرمایا اور پھر دوسرے لوگ بعد میں بیعت ہوئے۔
حواشی
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) في [ط، هـ]: زيادة (بن)، ولعله مما تقدم برقم [٣٨٥٣٠]، والصواب بحذفها كما هي رواية مجالد للخبر وهو من أوهامه وانظر: ما سيأتي برقم [٣٩٨٩٠]، وانظر: الكنى لمسلم ص ٤٠٢، والإصابة ٣/ ١٨٧، والاستيعاب ٢/ ٦٥٨.
(٣) في [أ، ب، س]: زيادة (ثم بايعه).