حدیث نمبر: 38551
٣٨٥٥١ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: بعث العلاء بن الحضرمي إلى رسول اللَّه ﷺ بثمانمائة ألف من خراج البحرين، وكان أول خراج قدم به على رسول اللَّه ﷺ، فأمر به (فنثر) (١) على حصير في المسجد، وأذن المؤذن فخرج إلى الصلاة فصلى، ثم جاء إلى المال فمثل عليه قائمًا فلم يعط ساكتا ولم يمنع سائلًا، فجعل الرجل يجيء فيقول: أعطني، فيقول: "خذ (قبضة) (٢) "، (ثم يجيء الرجل فيقول: أعطني، فيقول: "خذ قبضتين") (٣)، ويجيء الرجل فيقول: أعطني، فيقول: "خذ ثلاث قبضات" فجاء العباس فقال: يا رسول اللَّه أعطني من هذا المال، فإني أعطيت فداي وفداء عقيل يوم بدر، ولم يكن ⦗١٣٨⦘ لعقيل مال قال: فأخذ يبسط خميصة كانت عليه وجعل (يحثي) (٤) من المال، فحثى فيها ثم قام به فلم يطق حمله فقال: يا رسول اللَّه أحمل علي، فنظر إليه النبي ﷺ فتبسم حتى بدًا ضاحكه، وقال: "انقص من المال وقم بقدر ما تطيق"، فلما ولى العباس قال: أما إحدى اللتين وعدنا اللَّه فقد (أنجز) (٥) لنا إحداهما، ونحن ننتظر الأخرى قوله تعالى: ﴿(يَاأَيُّهَا) (٦) النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا﴾ [الأنفال: ٧٠]، إلى آخر الآية، فقد أنجزها اللَّه لنا ونحن ننتظر الأخرى (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ حضرت علاء بن حضرمی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بحرین کے خراج میں سے آٹھ لاکھ درہم بھیجے۔ یہ پہلا خراج تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے حکم دیا اور اس مال کو مسجد میں ایک چٹائی بچھا کر اس پر ڈال دیا گیا۔ مؤذن نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ پھر آپ اس مال کے پاس آئے اور اس کے پاس کھڑے ہوگئے، آپ نے کسی خاموش کو مال نہ دیا اور کسی مانگنے والے کو محروم نہ فرمایا۔ ایک آدمی آتا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ ایک مٹھی لے لو۔ پھر ایک آدمی آتا اور وہ کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ دو مٹھیاں لے لو۔ پھر ایک آدمی آتا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ تم تین مٹھیاں لے لو۔ اتنے میں حضرت عباس آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے بھی اس مال میں سے عطا کیجئے۔ میں نے غزوہ بدر میں اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا تھا۔ جبکہ عقیل کے پاس مال نہیں تھا۔ پھر حضرت عباس اپنے موجود چادر میں وہ مال بھرنے لگے۔ چادر بھرنے کے بعد جب وہ اٹھانے لگے تو ان سے اٹھایا نہ گیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھ پر اسے لدوا دیجئے۔ آپ ان کی طرف دیکھ کر اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ مال کم کرلو اور اتنا اٹھاؤ جتنا اٹھاسکتے ہو۔ جب حضرت عباس چلے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جن دو چیزوں کا وعدہ فرمایا تھا ان میں سے ایک کو پورا کردیا۔ اور ہم دوسری کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی أَیْدِیکُمْ مِنَ الأَسْرَی إنْ یَعْلَمِ اللَّہُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا } اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کردیا اور ہم دوسری بات کے پورا ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (فنثرها).
(٢) في [جـ]: (قبضته).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [جـ]: (يحثو).
(٥) في [س]: (أنجد).
(٦) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38551
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حميد بن هلال تابعي، أخرجه ابن سعد ٤/ ١٥، ويعقوب في المعرفة ١/ ٥٠٣، والبلاذري ص ٩٢، وأخرجه الحاكم ٣/ ٢٢٩ من طريق حميد بن هلال عن أبي بردة عن أبي موسى مرفوعًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38551، ترقيم محمد عوامة 36955)