٣٨٥٤٩ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن مجاهد أن النبي ﷺ لقي قومًا فيهم حاد يحدو، فلما رأوا النبي ﷺ سكت حاديهم فقال: "من القوم؟ " قالوا: من مضر، فقال النبي ﷺ: "وأنا من مضر"، فقال: "ما شأن حاديكم لا يحدو؟ "، فقالوا: يا رسول اللَّه ﷺ إنا أول العرب (حداء) (١) قال: "وما (ذاك) (٢)؟ " قالوا: إن ⦗١٣٧⦘ رجلًا منا -وسموه- (عزب) (٣) في (إبل) (٤) له في أيام الربيع، فبعث غلامًا له مع الإبل، فأبطأ الغلام ثم جاء فجعل يضربه بعصا على يده، فانطلق الغلام وهو يقول: وايداه وايداه، قال: فتحركت الإبل ونشطت، فقال له: أمسك أمسك، قال: فافتتح الناس الحداء (٥).حضرت مجاہد فرماتے ہں ک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ایک ایسی قوم سے ہوئی جن میں ایک حدی خواں حدی پڑھ رہا تھا لیکن جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ خاموش ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا کہ یہ کون سی قوم ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ قیلہ مضر سے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی مضر سے ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا حدی خواں خاموش کیوں ہوگیا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم عربوں میں سب سے پہلے حدی پڑھنے والے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہماری قوم کا ایک آدمی بہار کے موسم میں اپنے اونٹوں سے دور تھا۔ اس نے اپنے غلام کو اونٹ لینے بھیجا تو غلام نے دیر کردی۔ پھر وہ آدمی خود آیا اور غلام کو عصا سے اس کے ہاتھ پر مارنا شروع کردیا۔ تو غلام ” وایداہ ! وایداہ ! “ (ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ) کہتے ہوئے چلنے لگا۔ اس کا یہ جملہ سن کر اونٹ تیز تیز حرکت کرنے لگے اور نشاط میں آگئے۔ اس آدمی نے کہا کہ یہ کہتے رہو، یہ کہتے رہو۔ اس کے بعد سے لوگوں میں حدی کا رواج پڑگیا۔