حدیث نمبر: 38536
٣٨٥٣٦ - حدثنا عفان (١) حدثنا شعبة عن أبي إسحاق سمعت البراء يقول: أول من قدم علينا من أصحاب (رسول) (٢) اللَّه ﷺ مصعب بن عمير وابن أم مكتوم فجعلا (يقرئان) (٣) القرآن، قال: ثم جاء عمار وبلال وسعد، ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين، ثم جاء رسول اللَّه ﷺ، فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء فرحهم به (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے جو سب سے پہلے ہمارے پاس (مدینہ منورہ) آئے وہ حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابن ام مکتوم ہیں۔ ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار، حضرت بلال، حضرت سعدآئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کے ساتھ آئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے۔ میں نے مدینہ والوں کو کسی بات پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر دیکھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ب]: (النبي).
(٣) في [ط، هـ]: (يقرأن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأوائل / حدیث: 38536
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٤١)، وأحمد (١٨٥١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38536، ترقيم محمد عوامة 36940)