٣٨٤٩٠ - حدثنا ابن علية عن محمد بن إسحاق عن رجل عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال: كنت قائد أبي حين ذهب بصره، فكنت إذا خرجت معه إلى الجمعة فسمع التأذين استغفر لأبي أمامة أسعد بن زرارة ودعا له، فقلت له: يا أبت ما شأنك: إذا سمعت التأذين يوم الجمعة استغفرت لأبي أمامة ودعوت له وصليت عليه؟ قال: أي بني، إنه كان أول من جمّع بنا قبل (قدوم) (١) رسول اللَّه ﷺ في (نقيع) (٢) الخضمات في هزم بني بياضة، قال: وكم كنتم يومئذ؟ قال: كنا أربعين رجلًا (٣).حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی زائل ہوگئی تو میں انہیں لے کر جمعہ کی نماز کے لئے جایا کرتا تھا۔ جب وہ جمعہ کی اذان سنتے تو ابو امامہ اسعد بن زرارہ کے لئے استغفار کرتے اور دعا کرتے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابا جان ! جمعہ کے دن آپ ابو امامہ کے لئے دعا اور استغفار کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا بیٹا ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (مدینہ منورہ کی طرف) تشریف لانے سے پہلے سب سے پہلے انہوں نے ہی ہمیں جمعہ کی نماز بنو بیاضہ کے چشمے اور چراگاہ کے پاس پڑھائی تھی۔ میں نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے آدمی تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت ہم چالیس آدمی تھے۔