٣٨٤٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا بشر بن مفضل عن يونس عن الحسن قال: كان يضرب مثل ابن آدم مثل رجل حضرته الوفاة، (فحضر) (١) أهله وعمله فقال لأهله: امنعوني، قالوا: إنما (٢) (نمنعك) (٣) من أمر الدنيا، فأما هذا فلا [نستطيع أن نمنعك منه، فقال لماله: أنت تمنعني، قال: (إني) (٤) كنت (زينا) (٥) زينت في الدنيا، أما هذا فلا] (٦) أستطيع أن أمنعك منه، قال: (فوثب) (٧) عمله فقال: أنا صاحبك الذي أدخل معك قبرك، وأزول معك حيثما زلت، قال: أما واللَّه لو شعرتُ لكنتَ آثَرَ الثلاثة عندي، قال: (قال) (٨) الحسن: (فالآن) (٩) (فآثروه) (١٠) على ما سواه.حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ابن آدم کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس کی موت کا وقت قریب آگیا تو اس کے اہل و عیال اور اس کا مال اور عمل اس کے پاس آئے تو اس نے اپنے اہل و عیال سے کہا کہ اس موت کو مجھ سے دور کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو دنیا کے امور میں سے منع کرسکتے ہیں لیکن اس موت کو نہیں روک سکتے۔ پھر اس نے اپنے مال سے کہا کہ مجھ سے اس کو دور کرو تو اس نے جواب دیا کہ میں تو تیری صرف دنیا ہی کی زینت تھا لیکن اس امر کو میں تجھ سے دور نہیں کرسکتا۔ پھر اس کے عمل نے اس کو بھروسہ دلایا کہ میں ہی تیرا وہ ساتھی ہوں کہ تیرے ساتھ قبر میں داخل ہوجاؤں گا اور جس جگہ بھی تو جائے گا میں تیرے ساتھ ہوں گا تو اس آدمی نے کہا کہ کاش میں پہلے یہ بات مان لیتا کہ تو میرے نزدیک ان سب سے زیادہ مؤثر ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی ہی سے اس کو دوسروں پر ترجیح دو ۔