حدیث نمبر: 38470
٣٨٤٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن (١) أن ثلاثة علماء اجتمعوا فقالوا لأحدهم: ما أملك؟ قال: (ما) (٢) يأتي ⦗١١٦⦘ عليَّ شهر إلا ظننت أني (أموت) (٣) (فيه) (٤)، قالوا: إن هذا (الأمل) (٥)، فقالوا للآخر: ما أملك؟ قال: ما تأتي عليَّ جمعة إلا ظننت أني أموت فيها، قالوا للثالث: وما أملك؟ قال: وما أملُ من نفسه بيد غيره.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ تین علماء اکٹھے ہوئے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تیری امید کتنی ہے ؟ تو ایک نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میں ایک مہینہ زندہ رہ سکوں پھر مر جاؤں گا۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو بڑی امید ہے۔ پھر دوسرے سے پوچھا کہ تجھے کتنی امید ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میں ایک جمعہ تک رہ سکوں گا پھر مر جاؤں گا۔ انہوں نے تیسرے سے سوال کیا کہ تیری کیا امید ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اس شخص کو کیا امید ہوسکتی ہے کہ جس کی جان ہی کسی دوسرے کے پاس ہو ؟ “
حواشی
(١) سقط في [ع]: من هنا إلى حديث رقم [٣٩٥٢٩] في غزوة أحد.
(٢) في [ط، هـ]: (لما).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س]: (فيها).
(٥) في [س]: (لأمل).