٣٨٤٦٨ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا سعيد بن زيد أخو حماد بن زيد قال: حدثنا عثمان (الشحام) (١) قال: حدثنا محمد بن واسع قال: قدمت (من) (٢) مكة فإذا على الخندق قنطرة، فأُخذتُ فانطُلق بي إلى مروان (بن) (٣) المهلب وهو ⦗١١٥⦘ أمير على البصرة، فرحب بي (وقال) (٤): حاجتك (يا أبا) (٥) عبد اللَّه، (قلت) (٦): حاجتي إن استطعت أن (تكون) (٧) كما قال أخو بني عدي، قال: ومن أخو بني عدي؟ (قال) (٨): العلاء بن زياد، قال: اسُتعمل صديق له مرة على عمل، فكتب إليه: أما بعد فإن استطعت أن لا تبيت إلا وظهرك خفيف، وبطنك خميص، وكفك نقية من دماء المسلمين وأموالهم، فإنك إن فعلت ذلك لم يكن عليك سبيل ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ﴾ [الشورى: ٤٢] الآية، قال مروان: صدق (و) (٩) اللَّه ونصح، ثم قال: حاجتك يا أبا عبد اللَّه؟ قلت: حاجتي أن تلحقني بأهلي، قال: فقال: نعم.حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں کہ میں مکہ سے آیا تو راستہ میں خندق پر ایک پل تھا میں اس پل پر چل پڑا۔ وہ پل مجھے مروان بن مہلب کے پاس لے گیا جو بصرہ کے امیر تھے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور فرمایا اے عبداللہ آپ کی کوئی حاجت ہو ؟ میں نے کہا کہ میری حاجت یہ ہے کہ اسی طرح ہوجاؤں کہ جس طرح بنی عدی کے بھائی نے کہا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بنی عدی کے بھائی کون ہیں ؟ تو میں نے جواب دیا کہ ” علاء بن یزید “ ہیں۔ علاء بن یزید نے کہا ہے کہ ان کے کسی دوست کو کسی کام پر عامل مقرر کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ” اما بعد “ اگر تو طاقت رکھے کہ تو رات اس حالت میں گزارے کہ تیری کمر ہلکی ہو اور تیرا پیٹ خالی ہو اور تیری ہتھیلیاں مسلمانوں کے خون اور اموال سے پاک ہوں تو اگر تو نے یہ کام کرلیا تو تجھ پر کوئی راستہ نہیں۔ راستہ تو ان لوگوں پر ہے کہ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں زیادتی کرتے ہیں۔ مروان نے کہا کہ بالکل سچ فرمایا اور نصیحت کی۔ پھر مروان نے پوچھا کہ آپ کی کوئی ضرورت ہے ابوعبداللہ ؟ تو میں نے کہا کہ میری ضرورت یہ ہے کہ تو مجھے میرے گھر والوں سے ملا دے۔ تو اس نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔