حدیث نمبر: 38463
٣٨٤٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن صالح بن (رستم) (١) عن ابن أبي مليكة قال: صحبت ابن عباس من مكة إلى المدينة ومن المدينة إلى مكة، فكان إذا نزل منزلا قام شطر الليل فأكثر في ذلك (النشيج) (٢)، قلت: وما النشيج؟ قال: ⦗١١٣⦘ (النحيب) (٣) (البكاء) (٤)، ويقرأ: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [ق: ١٩] (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ کا سفر کیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو رات کو قیام فرماتے اور اس میں بہت روتے۔ میں نے سوال کیا کہ یہ آواز کیسی ہوتی تھی ؟ جواب دیا کہ رونے، دھونے کی آواز ہوتی تھی اور قرآن پاک کی آیت { وَجَائَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْت مِنْہُ تَحِیدُ } تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [س]: (ستم).
(٢) في [أ]: (التنشيج).
(٣) في [س]: (النجيب).
(٤) في [ع]: (والبكاء).