حدیث نمبر: 38459
٣٨٤٥٩ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه قال: حدثنا ابن أبي راود أن قوما صحبوا عمر ابن عبد العزيز فقال: عليكم بتقوى اللَّه وحده لا شريك له، وإياي والمزاح، فإنه (يجر) (١) القبيح ويورث الضغينة، وتجالسوا بالقرآن وتحدثوا (به) (٢)، فإن ثقل عليكم (فحديث) (٣) من حديث الرجال، (سيروا) (٤) باسم اللَّه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی رواد فرماتے ہیں کہ ایک قوم عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی مصاحب ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ صرف ایک اللہ سے ڈرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اپنے کو مزاح سے بچاؤ، اس لیے کہ یہ مزاح قبیح باتیں پیدا کرتا ہے اور کینہ پیدا کرتا ہے۔ اور قرآن کی مجالس لگایا کرو اور اس ہی سے متعلقہ باتیں کیا کرو۔ پھر اگر تم کو بوجھل محسوس ہو تو لوگوں کی باتوں میں کوئی بات کرلیا کرو۔ اللہ کے نام کے ساتھ زمین پر چلو۔
حواشی
(١) في [س]: (يجير).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب]: (حديث).
(٤) في [أ، ب، ط، هـ]: (فسيروا).