٣٨٤٤٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا ((زريط) (١) بن أبي زريط) (٢) قال: سمعت ⦗١٠٦⦘ الحسن وهو يقول: يا ابن آدم إنك (ناظر) (٣) إلى عملك (فزن) (٤) خيره وشره، ولا (تحقر) (٥) شيئا من الخير وإن هو صغر، فإنك إذا (رأيته) (٦) سرك مكانه، ولا (تحقر) (٧) شيئا من الشر فإنك إذا رأيته ساءك مكانه، رحم اللَّه (عبدا) (٨) (كسب) (٩) طيبا وأنفق (قصدا) (١٠) ووجه فضلا، (وجهوا) (١١) هذه الفضول حيث وجهها اللَّه، وضعوها حيث أمر بها اللَّه أن توضع، فإن من قبلكم كانوا يشترون أنفسهم بالفضل (من اللَّه، وإن) (١٢) هذا الموت قد أضر بالدنيا ففضحها، فواللَّه ما وجد بعد (ذو) (١٣) لب فرحا.حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم ! تو اپنے عمل کو دیکھ رہا ہے پس اس میں سے اچھے اور برے کا وزن کرکے دیکھ لے اور کسی بھی بھلائی کو حقیر نہ سمجھ اگرچہ وہ چھوٹی سی ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ جب تو اس کے مرتبہ کو دیکھے گا تو خوش ہوگا اور کسی بھی حقیر گناہ کو حقیر نہ سمجھ کیونکہ جب تو اس کے مقام کو دیکھے گا تو برا محسوس کرے گا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائیں کہ جس نے حلال طریقہ سے مال کمایا اور میانہ روی سے خرچ کیا اور زائد کو لوٹا دیا۔ اس زائد کو اسی جگہ لوٹایا کرو جہاں اللہ نے لوٹایا ہے اور اس کو اسی جگہ رکھو جہاں اللہ نے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پس تحقیق تم سے قبل لوگوں نے اللہ کے فضل کے بدلہ میں اپنی جانوں کو بیچ دیا تھا اور یہ موت دنیا کے بہت زیادہ قریب ہوئی۔ پس اس نے دنیا کو ذلیل کردیا اللہ کی قسم کسی جاندار نے بھی اس کے بعد خوشی نہیں دیکھی۔