٣٨٤٣٧ - حدثنا وكيع عن أبيه عن رجل من أهل الشام يكنى أبا عبد اللَّه قال: أتيت طاوسا فاستأذنت عليه فخرج إليّ (شيخ) (١) كبير ظننت أنه طاوس، قلت: أنت طاوس، قال: أنا ابنه، قلت: لئن كنت ابنه (لقد) (٢) خرف أبوك، قال: يقول هو: إن العالم لا يخرف، قال: قلت استأذن لي على أبيك قال: فاستأذن لي، فدخلت عليه فقال الشيخ: (سل) (٣) وأوجز، فقلت: (إن أوجزت لي) (٤) أوجزت لك، فقال: لا (تسأل) (٥) أنا أعلمك في مجلسك هذا القرآن والتوراة والإنجيل، خف اللَّه مخافة حتى لا يكون أحد أخوف عندك منه، (وارجه) (٦) رجاء هو أشد من خوفك إياه، وأحب للناس ما تحب لنفسك.حضرت ابوعبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں طاؤس رحمہ اللہ کے پاس آیا پھر میں ان کے پاس جانے کی اجازت طلب کی تو میرے پاس ایک بہت بوڑھا شخص آیا میں سمجھا کہ یہی طاؤس ہیں میں نے سوال کیا کہ آپ ہی طاؤس ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں میں تو ان کا بیٹا ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر تو ان کا بیٹا ہے تو پھر تو تیرے والد صاحب کا ذہن خراب ہوچکا ہوگا۔ اس نے جواب دیا کہ والد صاحب فرماتے ہیں کہ عالم کی عقل خراب نہیں ہوتی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ اپنے والد صاحب سے میرے لیے اجازت طلب کرو۔ فرماتے ہیں کہ مجھ کو اجازت مل گئی۔ پس میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ پوچھو اور جلدی اور مختصر کلام کرو۔ میں نے کہا کہ اگر آپ جلدی کلام کرتے چلیں گے تو میں بھی مختصر کلام کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ تو سوال نہ کر میں تجھ کو اس مجلس میں قرآن، تورات، انجیل کی تعلیم دیے دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈر کہ اس کے علاوہ کسی کا بھی خوف تجھے نہ رہے۔ اس کے خوف سے زیادہ تو اس سے امید رکھ اور لوگوں کے لیے وہی پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔