حدیث نمبر: 38436
٣٨٤٣٦ - حدثنا (حماد) (١) بن معقل عن مالك بن (دينار) (٢) قال: أبكاني الحجاج في مسجدكم هذا وهو يخطب، فسمعته يقول: امرؤ (زود) (٣) نفسه، امرؤ وعظ نفسه، امرؤ لم (يأتمن) (٤) نفسه على نفسه، (امرؤ) (٥) أخذ (من نفسه لنفسه) (٦) امرؤ كان للسانه وقلبه زاجر من اللَّه، (قال) (٧): فأبكاني.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو حجاج نے اس مسجد میں رلا دیا جب وہ خطبہ دے رہا تھا میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ بعض لوگ اپنے کو زاد راہ بناتے ہیں اور بعض لوگ اپنے نفس کو نصیحت کرتے ہیں اور بعض لوگ اپنے نفس کو اپنے لیے امین نہ سمجھتے اور بعض لوگ اپنے لیے اپنے نفس میں حصہ بچا لیتے ہیں اور بعض لوگوں کا نفس ان کے دل اور زبان کو اللہ سے روکتا یعنی ڈراتا ہے۔ فرمایا کہ مجھے اس سے رونا آگیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (معاذ)، وانظر ترجمته: في الجرح والتعديل ٣/ ١٤٨، والثقات ٨/ ٢٠٤.
(٢) في [س]: (دنير).
(٣) في [أ، ب]: (دور).
(٤) في [أ، ب]: (يأت من).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [جـ]: (لنفسه من نفسه).
(٧) في [هـ]: (تعالى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38436
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38436، ترقيم محمد عوامة 36844)