حدیث نمبر: 38434
٣٨٤٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي قلابة قال: التقى رجلان في السوق فقال أحدهما لصاحبه: يا أخي تعال ندعو اللَّه ونستغفره في غفلة الناس لعله يغفر لنا، ففعلا فقضى لأحدهما أنه مات قبل صاحبه، فأتاه في المنام فقال: يا أخي (أشعرت) (١) أن اللَّه غفر لنا (عشية) (٢) التقينا في السوق.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی قلابہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی بازار میں ایک دوسرے سے ملے تو ایک نے کہا کہ اے میرے بھائی آؤ اللہ سے دعا و استغفار کرتے ہیں لوگوں کی غفلت میں ہوسکتا ہے ہماری بخشش ہوجائے تو انہوں نے اسی طرح کیا۔ پھر ان میں سے ایک کے متعلق فیصلہ کیا گیا اور وہ اپنے دوسرے ساتھی سے پہلے فوت ہوگیا۔ پھر وہ دوسرے کو خواب میں آیا اور کہا کہ اے میرے بھائی کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری اس رات بخشش کردی تھی جس رات ہم بازار میں ملے تھے ؟ “
حواشی
(١) في [جـ، س]: (شعرت).
(٢) في [ب]: (عشيته).