حدیث نمبر: 38420
٣٨٤٢٠ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: أصابت بني إسرائيل مجاعة، فمر رجل على (رجل) (١) فقال: وددت أن هذا الرمل دقيق (لي) (٢) فأطعمه بني إسرائيل، قال (٣): فأعطي (على) (٤) نيته.مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ بھوک نے ستایا۔ ایک آدمی دوسرے کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ یہ صحرا آٹا بن جائے اور میں تمام بنی اسرائیل کو کھانا کھلاؤں تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نیت پر اس کو اجر عطا کردیا۔
حواشی
(١) كذا في النسخ: (رجل)، وفي [ع]: (جبل)، ولعلها: (رمل)، كما في تفسير الثعلبي ٣/ ٣٠١، وإحياء علوم الدين ٤/ ٣٦٣.
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، س]: زيادة (قال).
(٤) في [أ، ب]: (علا).