حدیث نمبر: 38403
٣٨٤٠٣ - حدثنا (هاشم) (١) بن القاسم (قال) (٢): حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال (عن العلاء بن زياد العدوي) (٣) قال: رأيت في النوم كأني (أرى) (٤) عجوزا عوراء كبيرة (العين) (٥)، والعين الأخرى قد كادت (أن) (٦) تذهب عليها من الزبرجد والحلية شيء عجب، فقلت: (ما) (٧) أنت؟ قالت: (أنا) (٨) الدنيا، فقلت: أعوذ باللَّه من شرك، قالت: فإن (سرك) (٩) أن يعيذك اللَّه من شري فأبغض الدرهم.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علاء بن زیاد عدوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ادھیڑ عمر کانی بڑھیا کو دیکھ رہا ہوں اور اس کی دوسری آنکھ بس نکلنے کے قریب ہی تھی۔ اور اس کے اوپر زبرجد اور دوسرے کئی قسم کے عجیب و غریب زیورات تھے۔ میں نے پوچھا کہ تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میں دنیا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس نے کہا کہ اگر تجھ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تجھے اللہ میرے شر سے بچائے تو درہم سے بغض رکھ۔

حواشی
(١) في [م]: (هشام).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من النسخ إلا في [هـ]، وتم استدراكه مما سبق ١١/ ٨٠ برقم [٣٢٥٣٩].
(٤) في [أ، ب]: (أرا).
(٥) في [هـ]: (العين الأخرى).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [ع]: (من).
(٨) في [أ]: (أني).
(٩) في [س]: (شرك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38403
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38403، ترقيم محمد عوامة 36813)