٣٨٣٩٨ - حدثنا حسين بن علي عن محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة قال: غزا أبو أيوب المدينة، قال: قلت: القسطنطينية؟ قال: نعم، قال: فمر بقاص يقص وهو يقول: إذا عمل العبدُ العملَ في صدر النهار عُرِض على أهل معارفه (من أهل الآخرة) (١) من آخر النهار، وإذا عمل (٢) (العمل) (٣) في آخر النهار عرض على أهل معارفه من أهل الآخرة في (آخر) (٤) النهار، قال فقال: أبو أيوب: انظر ما تقول؟ قال: فقال: واللَّه إنه لكما أقول، قال: فقال أبو أيوب: اللهم إني أعوذ بك ⦗٩٥⦘ أن (تفضحني) (٥) عند عبادة بن الصامت (وسعد) (٦) بن عبادة بما عملت (بعدهم) (٧) قال: فقال القاص: واللَّه لا يكتب اللَّه ولايته لعبد إلا ستر عوراته وأثنى عليه بأحسن عمله (٨).حضرت محمد بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے ایک شہر پر حملہ کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کیا قسطنطنیہ پر حملہ کیا تھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں پھر فرماتے ہیں کہ ان کا ایک قصہ گو کے پاس سے گزر ہوا جو یہ کہہ رہا تھا کہ جب کوئی آدمی دن کے ابتدائی حصہ میں کوئی عمل کرتا ہے تو آخر دن میں اس کا عمل اس تمام جاننے والوں کو جو آخرت میں اس کے جاننے والے ہیں پیش کردیا جاتا ہے اور جب کوئی آدمی آخر دن میں کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا عمل آخرت میں اس کے جاننے والے تمام لوگوں کے سامنے ابتدائے دن میں پیش کردیا جاتا ہے تو ابوایوب نے فرمایا کہ اس کو دیکھ کہ تو کیا کہہ رہا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں یہ بات آپ دونوں کو ہی تو کہہ رہا ہوں۔ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اے اللہ میں تجھ سے عبادہ بن صامت اور سعد بن عبادہ کے سامنے اپنے ان کے بعد کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے رسوا ہونے سے پناہ مانگتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس قصہ گو نے کہا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اپنی دوستی جب کسی کے لیے لکھتا ہے تو اس کے عیوب پر پردہ ڈال دیتا ہے اور پھر اس نے ان کے اچھے اعمال کی تعریف کی۔