٣٨٣٨٥ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا أبو بكر عن ضمرة أن أبا ريحانة [استأذن صاحب (مسلحته) (١) أن يأتي أهله فقال: يا (أبا) (٢) ريحانة!] (٣) كم تريد أن أؤجلك؟ قال: ليلة، فلما قدم أتى المسجد فلم (يزل) (٤) يصلي حتى أصبح ثم (دعا) (٥) (بدابته) (٦) متوجها إلى (مسلحته) (٧) فقالوا: يا (أبا) (٨) ريحانة! أما ⦗٩١⦘ استأذنت إلى أهلك؟ فقال: إنما أجلني (أميري) (٩) ليلة، فلا أكذب ولا أخلف، قال: فانصرف إلى (مسلحته) (١٠) ولم يأت أهله، وكان منزل أبي ريحانة بيت المقدس (١١).حضرت ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوریحانہ رحمہ اللہ نے اپنے توپ والے رفیق سے گھر جانے کی اجازت مانگی۔ اس نے کہا کہ اے ابوریحانہ آپ کب تک واپس آجائیں گے۔ انہوں نے جو ابد یا کہ ایک رات میں۔ پھر جب آئے تو مسجد میں چلے گئے اور صبح تک نماز پڑھتے رہے۔ پھر اپنی سواری منگوائی اور توپ خانے کی طرف چل دئیے۔ لوگوں نے کہا کہ اے ابوریحانہ کیا آپ نے اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں لی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھ کو میرے امیر نے صرف ایک رات کی اجازت دی تھی۔ پس نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتا ہوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ وہ اپنے توپ خانہ کی طرف چل نکلے اور اپنے گھر والوں کے پاس نہیں گئے اور ابوریحانہ کی منزل اس وقت بیت المقدس تھی۔