حدیث نمبر: 38383
٣٨٣٨٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي هلال قال: حدثنا حفص (الضبعي) (١) قال: قال عبد اللَّه بن أبي مليكة (٢): قال عمر: يا (عم) (٣) حدثنا عن الموت! قال: نعم يا أمير المؤمنين (غصن) (٤) كثير الشوك أدخل في جوف رجل، فأخذت كل شوكة بعرق، ثم ⦗٩٠⦘ جذبه رجل شديد الجذب (فأخذ) (٥) ما أخذ و (أبقى) (٦) ما (أبقى) (٧) (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ اے کعب ہمیں موت کے بارے میں کچھ بتائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں اے امیر المومنین ! یہ تو ٹہنی کی مثل ہے کہ جس کے بہت سے کانٹے ہوں جس کو کسی آدمی کے پیٹ میں داخل کردیا جائے اور ہر کانٹا رگ میں پیوست ہوجائے۔ پھر کوئی آدمی اس کو زور سے کھینچے اور جو نکال لے وہ تو نکال لے اور جو رہ جائے وہ رہ جائے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (الضبي).
(٢) في [أ، ب، جـ، ع]: زيادة (قال).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (يا عم)، وفي [ع]: (عمر)، وفي [هـ]: (كعب)، وفي [س]: بياض.
(٤) في [م]: (لغصن).
(٥) في [أ، ب]: (فأخذت).
(٦) في [جـ]: (أبتا).
(٧) في [جـ]: (أبتا).
(٨) منقطع؛ ابن أبي مكلية لم يدرك عمر، وأخرجه أبو نعيم في الحلية ٥/ ٣٦٥.