حدیث نمبر: 38373
٣٨٣٧٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن الحسن قال: كانوا يقولون: إن لسان الحكيم من وراء قلبه، فإذا أراد أن يقول رجع إلى قلبه، فإن كان له: قال، ⦗٨٨⦘ وإن كان عليه: أمسك، وإن الجاهل قلبه في طرف لسانه لا يرجع إلى (قلبه) (١)، ما (أتى) (٢) على لسانه (تكلم) (٣) به.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ لوگوں کا مقولہ ہے کہ دانا آدمی کی زبان اس کے دل کے پیچھے (ماتحت) ہوتی ہے۔ جب وہ بولنے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے دل سے پوچھتا ہے۔ اگر اس کا نفع ہو تو بات کہہ دیتا ہے اور اگر نقصان ہو تو خاموش رہتا ہے۔ اور جاہل آدمی کا دل اس کی زبان سے ایک طرف میں ہوتا ہے وہ اپنے دل سے نہیں پوچھتا جو منہ میں آجائے کہہ دیتا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (قوله).
(٢) في [أ]: (أنا).
(٣) في [أ، ب]: (يتكلم).