حدیث نمبر: 38359
٣٨٣٥٩ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن خيثمة عن الحارث بن قيس قال: إذا كنت في شيء من أمر الدنيا (فتوخ) (٢)، وإذا كنت في شيء من أمر الآخرة فامكث ما استطعت، وإذا جاءك الشيطان وأنت تصلي فقال: إنك (ترائي) (٣) فزد وأطل.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حارث بن قیس رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ جب تو کسی دنیا کے کام میں مشغول ہو تو جلدی سے نمٹا لے اور اگر آخرت کے کسی کام میں مشغول ہو تو جتنا ہوسکے ٹھہر کر سکون سے کر۔ اور جب تیرے پاس نماز میں شیطان آئے اور کہے کہ تو تو ریا کر رہا ہے تو نماز زیادہ پڑھ اور لمبی کرکے پڑھ۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (فتراخ)، وفي [هـ]: (فتوح)، وانظر: ما تقدم ١٣/ ٤٢٠ برقم [٣٧٦٦٠].
(٣) في [أ]: (تراي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38359
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38359، ترقيم محمد عوامة 36770)