حدیث نمبر: 38344
٣٨٣٤٤ - حدثنا أبو (أسامة) (١) عن سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: كان أبو (برزة) (٢) (يتقهل) (٣) وكان (عائد) (٤) بن عمرو المزني يلبس لباسا حسنا، قال: (فأتى) (٥) أحدهما رجل فقال: ألم تر إلى أخيك يلبس كذا وكذا ويرغب عن لباسك، قال: (ومن) (٦) يستطيع أن يكون مثل فلان، من فضل فلان كذا، إن من فضل فلان كذا، إن من فضل فلان كذا، قال: (وأتى) (٧) الآخر فقال مثل ذلك (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبرزہ رحمہ اللہ آلودہ رہتے تھے اور عائد بن عمرو مزنی عمدہ لباس پہنا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ اپنے دوسرے بھائی کی طرف نہیں دیکھتے جو اس اس طرح کے کپڑے پہنتا ہے اور آپ کے لباس سے اعراض کرتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ ان جیسا کون ہوسکتا ہے اس کی تو یہ یہ فضیلت بھی ہے، اس کو یہ یہ مرتبہ حاصل ہے۔ پھر وہ دوسرے کے پاس آیا تو اس نے بھی پہلے جیسا ہی جواب دیا۔
حواشی
(١) في [س]: بياض.
(٢) في [أ، ب]: (بردة).
(٣) أي: في ملابسه شيء، وفي [جـ]: (يتفهل)، وفي [س]: (يتقبل).
(٤) في [أ، ب]: (عايذ)، وفي [س]: (عابد).
(٥) في [جـ]: (فأما).
(٦) في [س]: (ولن).
(٧) في [أ، ب]: (وأتا)، وفي [جـ]: (وأما).