حدیث نمبر: 38330
٣٨٣٣٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير قال: أوصى رجل ابنه فقال: يا بني أظهر الياس مما في أيدي الناس، فإنه (غنى) (١)، (وإياك) (٢) وطلب الحاجات فإنه (فقر) (٣) حاضر، وإياك وما يعتذر منه بالقول، وإذا صليت فصل صلاة مودع لا ترى أنك تعود، وإن استطعت أن تكون اليوم خيرا (منك) (٤) ⦗٧٦⦘ أمس (وغدا) (٥) خيرا منك (اليوم) (٦) فافعل.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیز سے ناامیدی ظاہر کر اس لیے کہ یہی غنا ہے۔ اور اپنے آپ کو حاجات کے مانگنے سے بچا کیونکہ یہی اس زمانہ کا فقر ہے اور اپنے آپ کو ان باتوں سے بچا جن کی معذرت کرنی پڑے اور جب تو نماز پڑھے تو ایسی نماز پڑھ کہ جیسے یہ آخری نماز ہے یہ مت سمجھ کہ دوبارہ بھی موقع ملے گا۔ اور اگر تو اس طرح کرسکتا ہو تیرا آج کل سے بہتر اور آئندہ کا دن آج سے بہتر ہو تو اس طرح ضرور کر۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (غنا).
(٢) في [ع]: تكرر.
(٣) في [هـ]: (فقد).
(٤) في [ع]: (من).
(٥) في [س]: (غدا).
(٦) سقط من: [س].