حدیث نمبر: 38322
٣٨٣٢٢ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي (عن العلاء بن المسيب عن خيثمة) (١) (قال) (٢): قال عيسى ابن مريم: (لا تخبئ) (٣) (رزق) (٤) اليوم لغد، فإن الذي أتاك به اليوم (سيأتيك) (٥) به غدا، (فإن) (٦) قلت: وكيف يكون؟ (٧) فانظر إلى الطير لا تحرث ولا تزرع، تغدو وتروح إلى رزق اللَّه، [فإن قلت: وما يكفي الطير؟ فانظر إلى حمر (الوحش) (٨) وبقر الوحش تغدو إلى رزق اللَّه] (٩) وتروح شباعا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ آج کے رزق میں سے کل کے لیے جمع نہ کرکے رکھو۔ اس لیے کہ جس ذات نے آج دیا ہے وہ کل بھی دے سکتی ہے۔ اگر تیرے ذہن میں سوال ہو کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے تو پرندوں کو دیکھ لے جو نہ تو ہل چلاتے ہیں اور نہ ہی کھیتی باڑی کرتے ہیں صبح کو نکلتے ہیں اور شام کو اللہ کے رزق کے ساتھ ہی واپس آتے ہیں۔ پھر اگر تو کہے کہ یہ پرندوں کی مثال کافی نہیں تو جنگلی گدھوں کو دیکھ لے اور نیل گائے کو دیکھ لے جو صبح اللہ کے رزق کی طرف نکلتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [س]: (تحبسوا)، وفي [ط]: (تخبؤوا).
(٤) في [جـ]: (أرزق).
(٥) في [س]: (ستأتيك)، وفي [هـ]: (سيلتك).
(٦) سقط من: [أ، جـ، س، ع].
(٧) في [س]: زيادة (قال).
(٨) في [أ، ع]: (الدحش).
(٩) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ، س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38322
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38322، ترقيم محمد عوامة 36733)