حدیث نمبر: 38305
٣٨٣٠٥ - محاضر (قال) (١): حدثنا الأعمش عن يزيد بن أبي زياد عن عبد اللَّه بن الحارث قال: ما من شجرة صغيرة ولا كبيرة ولا (مغرز) (٢) إبرة رطبة ولا يابسة، إلا ملك (موكل) (٣) بها، يأتي اللَّه بعملها كل يوم، برطوبتها إذا رطبت (ويبوستها) (٤) إذا يبست (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن حارث کا ارشاد ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا درخت اور کوئی سوئی کے گاڑنے کے بقدر خشک یا تر وتازہ جگہ ایسی نہیں جس پر فرشتہ مقرر نہ ہو۔ وہ اللہ کے پاس اس کے روزانہ کے اعمال نہ لے کرجاتا ہو۔ اس کی تروتازگی کے وقت کے اعمال بھی اور اس کی خشکی کی حالت کے اعمال بھی۔
حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: (مغر).
(٣) في [أ، س، ع]: (يتوكل).
(٤) في [س]: (بيبوستها).