حدیث نمبر: 38296
٣٨٢٩٦ - [حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع إذا قيل له: ألا تداوى؟ قال: (قد أردت (ذلك)) (٢) (٣)، ثم (ذكرت) (٤) عادا وثمودا وأصحاب الرس وقرونا بين ذلك كثيرا، فعرفت (أنه) (٥) قد كانت فيهم أوجاع، ولهم أطباء، فمات المداوي والمداوى] (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت بکر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب ربیع سے سوال کیا گیا کہ آپ دوا استعمال کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ اول میں نے اس کا ارادہ کیا تھا پھر میں قوم عاد اور قوم ثمود اور اصحابِ رس اور اس کے درمیان بہت سی اقوام کو یاد کیا تو مجھ کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ ان لوگوں میں بھی تکالیف تھیں اور معالج بھی تھے۔ پس علاج کرنے والا اور کروانے والا دونوں ہی چل بسے ہیں۔

حواشی
(١) في [ع]: (بشر).
(٢) في [أ، س، ع]: (ذاك).
(٣) في [س]: (قد أدت ذاك).
(٤) في [أ]: (ذكروا).
(٥) في [أ]: (أنهم).
(٦) سقط الخبر في: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38296
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38296، ترقيم محمد عوامة 36707)