٣٨٢٩٠ - حدثنا سعيد بن عبد اللَّه عن (نسير) (١) عن بكر قال: كان الربيع يقول: يا بكر بن ماعز (يا بكر) (٢) اخزن عليك لسانك إلا مما لك ولا عليك، (فإني) (٣) اتهمت الناس في ديني، أطع اللَّه فيما علمت، وما استؤثر به عليك فكله إلى عالمه، لأنا عليكم في العمد أخوف مني عليكم في الخطأ، ما خيركم اليوم (بخيره) (٤)، ولكنه خير من آخر شر منه، ما كل ما أنزل اللَّه على محمد ﷺ أدركتم، ولا كل ما تقرؤون تدرون ما (هو) (٥)، السرائر التي (يُخفين) (٦) من الناس وهن للَّه بواد، (التمسوا) (٧) دواءها، ثم يقول لنفسه: وما دواؤها؟ أن (تتوب) (٨) إلى اللَّه ثم لا (تعود) (٩).حضرت ربیع فرماتے تھے کہ اے بکر بن ماعز ! اپنی زبان کو مفید کاموں میں استعمال کرو۔ نقصان دہ باتوں سے بچو۔ میں لوگوں کو اپنی دین داری کے بارے میں لاعلم سمجھتا ہوں۔ ان چیزوں میں اللہ کی اطاعت کرو جنھیں تم جانتے ہو۔ جو بات تم تک پہنچے اسے اس کے جاننے والے پر موقوف کرو۔ اس لیے کہ جان بوجھ کر غلطی کرنا خطا سے زیادہ خطرناک ہے۔ تمہاری ہر چیز خیر نہیں بلکہ شر سے بہتر ہے۔ حضور ﷺ کو دی جانے والی تمام باتیں تم تک نہیں پہنچیں اور وہ سب کچھ جو تم پڑھتے ہو سمجھتے نہیں ہو۔ جو چیزیں لوگوں کے لیے پوشیدہ ہیں لوگوں کے لیے ظاہر ہیں۔ ان کا علاج ڈھونڈو پھر اپنے آپ سے خطاب کر کے فرماتے کہ اس کی دوا یہ ہے کہ اللہ کے دربار میں توبہ کرو اور پھر گناہ نہ کرو۔