٣٨٢٨٦ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا جرير قال) (١): حدثني عبد اللَّه بن عبيد ابن عمير قال: كان لأيوب النبي ﷺ أخوان (فجاءا) (٢) (جميعًا) (٣) فلم يستطيعا (أن يدنوا منه) (٤) من ريحه، فقال أحدهما للآخر: لو كان اللَّه علم لأيوب خيرا ما بلغ به هذا، فجزع أيوب من قولهما جزعا شديدا لم (يجزعه) (٥) من شيء قط، فقال أيوب: اللهم إن كنت تعلم أني لم (أبت) (٦) ليلة قط (شبعا) (٧) وأنا أعلم مكان جائع فصدقني، فصدق وهما يسمعان، ثم قال: اللهم إن كنت تعلم أني لم ألبس قميصا قط وأنا أعلم مكان عار فصدقنى، فصدق وهما يسمعان، ثم خر ساجدا، ثم قال: اللهم إني لا أرفع رأسي حتى تكشف عني، قال: فما رفع رأسه حتى كشف اللَّه عنه.حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایوب کے دو بھائی تھے۔ وہ دونوں اکٹھے آئے تو ایوب سے آنے والی بو کی وجہ سے اس کے قریب نہ ہوسکے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ ایوب علیہ السلام میں کوئی بھلائی دیکھتے تو اس کو یہاں تک نہ پہنچاتے۔ تو ایوب علیہ السلام ان کے اس قول کی وجہ سے اتنا شدت سے روئے کہ اتنا کبھی نہ روئے تھے۔ پھر ایوب علیہ السلام نے فرمایا کہ ” اے اللہ اگر تو جانتا ہے میں کسی بھی رات پیٹ بھر کر نہیں سویا جبکہ میں ایک بھوکے کے مقام کو بھی جانتا ہوں تو تو میری تصدیق کر چناچہ ان کی تصدیق کی گئی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے کبھی قمیص نہیں پہنی اور میں ننگے کے مقام کو بھی جانتا ہوں تو میری تصدیق کر چناچہ اس کی تصدیق کی گئی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر ایوب علیہ السلام سجدہ میں گرگئے پھر دعا کی کہ اے اللہ ! میں اس وقت تک سر نہیں اٹھاؤں گا کہ جب تک تو میرے غم کو نہیں دور کردے گا۔ پھر انہوں نے اس وقت تک اپنا سر نہیں اٹھایا کہ جب تک اللہ نے ان کا غم دور نہیں کردیا۔