٣٨٢٨٢ - حدثنا شاذان قال: حدثنا مهدي بن ميمون عن الجريري عن عبد اللَّه ابن شقيق العقيلي قال: سمعت كعبا يقول: لأن أبكي من خشية اللَّه (تعالى) (١) حتى (يسيل دمعي) (٢) على وجنتي؛ أحب إلي من أن أتصدق بوزني ذهبا، والذي نفس كعب بيده: ما من عبد مسلم يبكي من خشية اللَّه (٣) حتى تَقْطُرَ قطرة من دموعه ⦗٥٩⦘ (إلى) (٤) الأرض فتمسه (النارُ) (٥) أبدا حتى يعود قطر السماء الذي وقع إلى الأرض من حيث جاء ولن يعود أبدا.حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی فرماتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں اللہ کے خوف سے روؤں یہاں تک کہ آنسو میرے رخسار پر بہنے لگیں یہ مجھ کو اس سے زیادہ پسند ہے۔ میں اپنے وزن کے بقدر سونا صدقہ کروں۔ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں کعب رضی اللہ عنہ کی جان ہے کہ جو بھی کوئی مسلمان اللہ کے خوف سے روتا ہے اور اس کے آنسو زمین پر گرتے ہیں اس کو جہنم کی آگ اس وقت تک نہیں چھو سکتی جب تک آسمان سے پانی کا زمین پر ٹپکا ہوا قطرہ دوبارہ اپنی جگہ پر نہ چلا جائے اور وہ ہرگز نہیں جاسکتا۔