حدیث نمبر: 38269
٣٨٢٦٩ - حدثنا (ابن) (١) إدريس عن أبيه عن المنهال عن شقيق بن سلمة قال: دخلنا على خباب نعوده فقال: في هذا التابوت ثمانون ألفا ما شددتها بخيط ولا منعتها من سائل، فقالوا: علام تبكي؟ قال: مضى أصحابي ولم تنقصهم الدنيا شيئًا، وبقينا حتى ما نجد لها موضعا إلا التراب (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم خباب کے پاس عیادت کے لیے آئے تو انہوں نے فرمایا کہ اس صندوق میں اسی ہزار ٨٠٠٠٠ گرہیں باندھ کر رکھی ہوئی ہیں اور میں نے ان سے کسی سائل کو نہیں روکا۔ ہم نے ان سے سوال کیا کہ آپ کس بات پر روتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے ساتھی چلے گئے اور دنیا نے ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا تھا اور اب ہم باقی رہ گئے ہیں حتی کہ اب ہم اس کی سوائے مٹی کے اور کوئی جگہ نہیں دیکھتے۔

حواشی
(١) في [ع]: (أبو).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38269
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ المنهال ثقة، أخرجه البخاري (٦٤٣١)، وأحمد (٢١٠٦٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٤٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38269، ترقيم محمد عوامة 36680)