حدیث نمبر: 38264
٣٨٢٦٤ - حدثنا ابن مبارك عن الربيع بن أنس عن أبي داود عن أبي بن كعب قال: عليكم بالسبيل والسنة، فإنه ليس (من) (١) عبد على سبيل وسنة: ذكر الرحمن ففاضت عيناه من خشية اللَّه (فمسته النار أبدا، وليس من عبد على سبيل وسنة: ذكر اللَّه فاقشعر جلده من خشية اللَّه) (٢) إلابيان مثله كمثل شجرة يَبس ورقها فهي كذلك (إذ) (٣) أصابتها ريح، فتحات ورقها عنها إلا تحاتت خطاياه (٤) كما يتحات (عن) (٥) هذه الشجرة ورقها، وإن اقتصادا في (سنة) (٦) وسبيل خير من اجتهاد في (غير) (٧) سنة و (٨) سبيل، فانظروا أعمالكم، فإن كانت اقتصادا واجتهادا أن تكون على منهاج الأنبياء وسنتهم (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابی بن کعب کا ارشاد ہے کہ تم پر سنت اور درست راستہ کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ جو سنت اور درست راستہ پر ہو اور اس کی خشیت الٰہی کی وجہ سے آنکھیں بہہ پڑیں پھر اس کو جہنم کی آگ چھوئے۔ اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو سنت اور درست راہ پر ہو اور اس کی کھال اللہ کے خوف سے کانپ اٹھے مگر اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے کہ جو خشک ہوچکا تھا اور وہ اسی حالت میں تھا کہ اچانک ہوا چلی اور اس کے پتے کے پتے اس سے جھڑ کر گرگئے۔ اسی طرح اس کے بھی صرف گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں۔ سنت اور درست راستہ میں میانہ روی بہتر ہے سنت اور درست راستہ کے علاوہ میں جدوجہد کرنے سے بس تم اپنے اعمال کا جائزہ لو اگر ان میں میانہ روی اور مجاہدہ موجود ہے تو یہ اعمال انبیاء اور ان کی سنت پر ہی ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [ع].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (إذا)، وسقط من: [س].
(٤) في [أ، ب]: زيادة (عنها).
(٥) في [ط، هـ]: (من).
(٦) في [س]: (سنته).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) في [أ، ب]: زيادة (غير).
(٩) مجهول؛ لجهالة أبي داود، وأخرجه هكذا ابن المبارك (٨٧)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٣٧٢، واللالكائي (١٠)، وأخرجه أحمد في الزهد ص ١٩٦ عن الربيع عن أبي قتادة عن أبي، وأخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٥٢، وابن الجوزي في تلبيس إبليس من ١٦ عن الربيع عن أبي العالية عن أبي، كما ورد من حديث الربيع بن أنس عن أنس مرفوعًا، أخرجه الحاكم ٤/ ٢٨٩، والطبراني في الأوسط (١٦٤١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38264
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38264، ترقيم محمد عوامة 36675)