٣٨٢٦٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد مولى أبي أسيد قال: كان عمر إذا صلى أخرج الناس من المسجد فأخذ إلينا، فلما رأى أصحابه ألقى الدرة وجلس فقال: ادعوا، فدعوا، قال: فجعل يدعو ويدعو حتى انتهت الدعوة إليَّ، فدعوت وأنا مملوك، فرأيته دعا وبكى بكاء (١) لا تبكيه الثَّكْلى، ⦗٥٣⦘ فقلت في نفسي: هذا الذي (تقولون) (٢) (لم هو) (٣) غليظ؟ (٤).حضرت ابو اسید کے مولی ابوسعید سے منقول ہے کہ عمر نے جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور ہماری طرف کو چل پڑے۔ جب اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو ” درۃ “ کو رکھا اور بیٹھ گئے، فرمانے لگے کہ دعا کرو تو وہ سب لوگ دعا کرنے لگے۔ پھر وہ باری باری دعا کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دعا کی میری باری آگئی اور میں نے بھی دعا کی اور میں اس وقت غلام تھا۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے دعا مانگی اور اتنا روئے کہ کوئی عورت جس کا بچہ گم ہوگیا ہو وہ بھی اتنا نہیں روتی۔ میں نے اپنے جی میں سوچا کہ ” کیا یہی وہ شخص ہے کہ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ بہت غصہ والا ہے۔